keenjher jheel

کینجھر جھیل نے کراچی کا پورا خاندان نگل لیا، پل جھپکتے سب ختم ہو گیا

 

کینجھر جھیل کا واقعہ ایک ہفتہ پہلے پیش آیا۔ لیکن اس کے اثرات ابھی بھی سوشل میڈیا پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ کراچی کا رہائشی ایک پورا خاندان اس جھیل کی نذر ہو گیا۔

 ذرا تصور کریں کہ ایک ہی خاندان کی نو خواتین اور ایک بچی کی لاشیں جھیل سے نکالی گئی ہیں۔ یعنی ایک خاندان ختم ہو گیا۔

کینجھر جھیل کے بارے میں جو لوگ نہیں جانتے ان کو یہ بتاتا چلوں کہ ٹھٹھہ کے قریب یہ ایک جھیل ہے اور یہاں تفریح کے لیے جانے والوں میں زیادہ تعداد کراچی کے لوگوں کی ہوتی ہے۔ کیوں کہ یہ کراچی کے نزدیک بھی ہے اور اس طرح کی تفریح کراچی میں یا تو سی ویو پر ملتی ہے یا پھر کینجھر جھیل میں جانا پڑتا ہے۔
اس افسوس ناک حادثے کی بھینٹ چڑھنے والوں کے بارے میں ان کے پڑوسیوں کا کہنا تھا کہ یہ پورا خاندان پکنک پر جانے سے پہلے گھر میں جشن منا رہا تھا۔ سارے گھر والے خوش تھے۔ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ جشن موت کا جشن ہوگا۔

اب بات کرتے ہیں کہ یہ واقعہ پیش کیوں آیا۔ اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر دو کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔

پہلی کہانی تو یہ ہے کشتی میں ضرورت سے زیادہ افراد سوار تھے ۔ اس لیے کشتی الٹ گئی

دوسری کہانی یہ ہے کہ کشتی میں پہلے سے ہی سوراخ تھا۔ اور پھر اس کشتی میں پانی بھر جانے سے یہ حادثہ پیش آگیا۔

اگر کشتی میں لوگ زیادہ سوار ہو گئے تھے تو یہ کشتی والے کا قصور ہے کہ اس نے ضرورت سے زیادہ افراد کو کشتی میں سوار ہونے کی اجازت ہی کیوں دی اور اگر ایسا کر ہی لیا تھا تو ان سب کو لائف جیکٹس کیوں مہیا نہیں کیں۔

اب اس حادثے کے بعد حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ آئندہ جو بھی کشتی میں سیر کرے گا وہ لائف جیکٹ ضرور پہنے گا۔

یہاں پر میں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ جب بھی کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اسی طرح کے ملتے جلتے بیانات سننے کو ملتے ہیں۔ لیکن قصور ہمارے لوگوں کا بھی ہے جو احتیاط نہیں کرتے۔

اب کورونا کو دیکھ لیجیے۔ ابھی بھی ایسے بہت سارے لوگ آپ کے آس پاس ہوں گے جو کورونا کو ابھی بھی تسلیم نہیں کرتے اور یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ یہ سب فراڈ ہے۔ کیا آپ کو کورونا سے بچاؤ کے لیے کوئی شخص احتیاط کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ بہت کم ہی کوئی شخص ماسک لگائے ہوئے آپ کو نظر آئے گا۔

ہماری قوم کا مسئلہ یہ ہے کہ احتیاط نہیں کرنی۔ جیسا کہ کینجھر جھیل کے واقعے میں ہوا۔ اس خاندان کے سربراہ کو جو اس وقت وہاں تھا۔ یہ اس کی ذمے داری تھی کہ وہ بغیر لائف جیکٹس کے اپنے خاندان کی عورتوں کو کشتی میں سوار نہ ہونے دیتا

لیکن اس شخص نے بھی فکر نہیں کی۔ اس شخص کو یہ بھی چاہیے تھا کہ ضرورت سے زیادہ خواتین کو کشتی میں سوار نہ ہونے دیتا۔ یہ غلطیاں تو ہوئی ہیں اور یقیناجس خاندان کے ساتھ یہ سانحہ پیش آیا ہے شاید ان کی آنے والی نسلیں بھی اس حادثے کو کبھی فراموش نہیں کرپائیں گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *