nadia ashraf

نادیہ اشرف نے خود کشی کیوں کی، کیا واقعی سپروائزر بلیک میل کر رہا تھا؟

 

نادیہ اشرف کی خودکشی کا واقعہ ایک معمولی واقعہ نہیں۔ اس واقعے نے ملک کے بڑی تعلیمی اداروں کے اندر کے ماحول کے متعلق خوفناک سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔

نادیہ اشرف پی ایچ ڈی کر رہی تھی اور تقریباً پندرہ سال سے کر رہی تھی۔ لیکن اس کے تھیسس کے مسائل تھے۔ اس کا تھیسس کلیئر نہیں ہو رہا تھا

اب تھیسس کون کلیئر کرتا ہے تو یہ بڑی سیدھی سی بات ہےکہ سپروائزر ہی کلیئر کرتا ہے۔

یہ سپروائزر جس کا نام ڈاکٹر اقبال چوہدری ہے یہ کئی دفعہ نادیہ اشرف کا تھیسس ریجیکٹ کر چکا تھا۔ اور سب سے خطرناک بات جو اس کیس کے حوالے سے چونکا دینے والی ہے اور اس معاملہ کو بالکل جنسی ہراسگی کا معاملہ کہا جا سکتا ہے

نادیہ اشرف کے سپروائزر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے نادیہ اشرف کو ایک دفعہ جاب سے بھی نکلوایا۔ نادیہ اپنے اس سپروائزر سے جان چھڑانے کے لیے ایک دوسرے ادارے میں جاب کرنے لگی تو ڈاکٹر اقبال نے اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے اسے وہاں سے بھی نکلوا دیا

اگر معاملے کو اس رخ سے دیکھا جائے تو صاف پتا چلتا ہےکہ ڈاکٹر اقبال ایک بلیک میلر اور خطرناک جنسی بھیڑیا تھا۔  اور نادیہ اشرف اس کی جنسی خواہش پوری نہیں کر رہی تھی۔ اس لیے اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا

نادیہ اشرف کے حوالے سے یہ خبریں بھی ہیں کہ وہ خود بھی اپنے فیملی ایشوز کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار تھی اور اس کا علاج بھی چل رہا تھا۔ لیکن اگر اس کی خود کشی کا معاملہ دیکھا جائے تو ڈاکٹر اقبال کی پوزیشن مشکوک ہے۔

نادیہ کی کلاس فیلوز اور قریبی دوستوں کے مطابق نادیہ نے انہیں کہا تھا کہ ڈاکٹر اقبال اس کا تھیسس کبھی بھی قبول نہیں کرے گا۔ پتا نہیں وہ مجھ سے کیا چاہتا ہے۔

یہ معاملہ بالکل صاف ہے۔ ڈاکٹر اقبال اپنی پوزیشن سے فائدہ اٹھا کر نہ جانے کتنی لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کر چکا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہےکہ ابھی تک پولیس نے اس شخص کا بیان تک نہیں لیا۔

نادیہ اشرف کسی بڑے باپ کی بیٹی نہیں۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ مجھے بالکل نہیں لگتا کہ اس لڑکی کو اس  ملک میں کوئی انصاف ملے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *