ماڈل ڈاکٹر ماہا کی خودکشی : دنیا کی انوکھی خودکشی کی واردات

سوشل میڈیا پر مشہور کراچی کی رہائشی ڈاکٹر ماہا کی خود کشی نے کئی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

ڈاکٹر ماہا انسٹاگرام پر فیشن ماڈل کے طور پر اپنی پہچان رکھتی ہیں۔ چند دن پہلے انہوں نے مبینہ طورپر خود کشی کر لی۔

خودکشی تو بہت سارے لوگ کرتے ہیں لیکن یہ دنیا کی انوکھی خودکشی کی واردات ہے جس میں خودکشی کرنے والے نے اپنے سر کے پچھلے حصے پر گولی مار کر خود کشی کی

ایسی خودکشی کی مثال آپ کو کہیں اور نہیں ملے گی۔

یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر ماہا کی خود کشی کو شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ماہا کے گھر والے اس کو خود کشی قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اس سوال کا جواب کوئی نہیں دے رہا کہ اگر ڈاکٹر ماہا نے خود کشی ہی کرنی تھی تو سر کے بیچ میں یا پیشانی پر گولی مارکر خود کشی کر لیتی۔ یہ زیادہ آسان تھا۔ لیکن اس کی بجائے ڈاکٹر ماہا نے اپنے سر کے پچھلے حصے پر گولی مار کر خود کشی کی اور ایسی خود کشی کے بارے میں نہ کسی نے کچھ سنا اور نہ جانا۔

ابھی تک جومعلومات سوشل میڈیا پر آئی ہیں۔ اس کے مطابق ڈاکٹر ماہا کے والد ایک گدی نشین ہیں۔ گدی نشینی کا مطلب یہ کہ والد صاحب مذہبی رجحان رکھتے ہیں اور ڈاکٹر ماہا کے اپنے والد سے اختلافات رہتے تھے۔

ڈاکٹر ماہا کے قریبی دوست نے پولیس کو جو بیان دیا ہے۔ اس کے مطابق ڈاکٹر ماہا ڈپریشن کا شکار تھی۔ گھریلو مسائل کا شکار تھی۔ جس دن ڈاکٹر ماہا نے خود کشی کی۔ اس دن ڈاکٹر ماہا کے دوست کے مطابق میں نے ڈاکٹر ماہا کے گھر آنے کی بات کی تو ماہا نے مجھے منع کر دیا۔ اور اسی دن اس نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔

ڈاکٹر ماہا ایک بڑے اسپتال میں ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ وہ خود مختار اور آزاد خیال تھی۔ انسٹاگرام پر اس کے ہزاروں فالوورز بھی ہیں جہاں وہ فیشن ٹپس دیتی تھی۔ وہ ہر لحاظ سے مادی طور پر آسودہ تھی۔ لیکن اس کی خود کشی ہر لحاظ سے مشکوک ہے۔ لیکن جس طرح سے تفتیش کو لمبا کیا جا رہا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ پولیس یہ بات سوچنا نہیں چاہتی کہ خود کشی کرنے والی خاتون اپنے آپ کو سرکے پچھلے حصے پر گولی کیسے مار سکتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *