motorway rape culprit

موٹروے ریپ کیس:: خاتون کے ریپ کیس میں ن لیگ اپنا سیاسی کھیل کھیلنے میں مصروف

تین دن پہلے لاہور ڈی ایچ اے سے ایک خاتون رات کو سفر کرنے نکلتی ہے ۔ وہ گوجرانوالہ کی جانب رواں دواں ہے۔ یہ خاتون اپنے دو بچوں کے ساتھ موٹر وے کے ذریعے سفر کر رہی ہے۔رنگ روڈ سے آگے نکلتے ہی اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ پھر وہ مدد کے لیے فون کرتی ہے۔ پولیس سے مدد نہیں ملتی اور پھر ڈاکو پہنچ جاتے ہیں اور بچوں کے سامنے ماں کا ریپ کر دیتے ہیں۔ یہ کہانی الیکٹرانک میڈیا پر اور سوشل میڈیا پر ہر کوئی سنانے میں مصروف ہے۔

Must read:

http://shakeelmalik.com/crime-story-or-success-story/self-development/motivation/

http://shakeelmalik.com/6-benefits-of-journal-writing/self-development/

http://shakeelmalik.com/pray-for-difficult-easy-life-destroy/self-development/

http://shakeelmalik.com/why-motivation-is-necessary/self-development/

 

جب یہ واقعہ رونما ہوا ۔ میں نے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر یہ سارا واقعہ سنا اور اس کی تفصیل معلوم کی۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا۔ میری چھٹی حس نے کہا کہ اس ریپ کیس کی آڑ میںایک اور کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ میں جوبھی کہہ رہا ہوں اس کی تصدیق آپ سوشل میڈیا پر ہی کر سکتے ہیں۔ اس ریپ کیس کے بعد سب سے زیادہ دباو¿ سی سی پی ا و لاہور عمر شیخ پر ڈالا جا رہا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر بڑا اینکر سی سی پی او لاہور کے خلاف اوپر تلے پروگرام کر رہا ہے۔

میڈیا پرسن ہونے کے ناطے میں یہ سمجھ سکتا ہوں کہ یہ باقاعدہ ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے جس کا نشانہ سی سی پی او کو بنایا جا رہا ہے۔ اس کا جواز یہ دیا جا رہا ہے کہ سی سی پی او لاہور نے یہ کیوں کہا کہ خاتون کو اکیلے سفر نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ اس کو جواز بنا کر شیخ عمر کی کردار کشی کرنی شروع کر دی جائے۔ یقینا اس کے پیچھے کوئی اور مقاصد ہیں۔۔اب آپ اس بات کو سمجھ لیں کہ سی سی پی او عمر شیخ کی لاہور میں تعیناتی کے پہلے دن سے ہی ایشوز کھڑے ہو رہے تھے۔ لاہور کے پولیس آفیسرز شیخ عمر کی تعیناتی پر خوش نہیں تھے۔ ن لیگ عمر شیخ کی تعیناتی پر خوش نہیں تھی۔۔اور پھر شیخ عمر کی تعیناتی کے کچھ دن بعد ہی ایک ریپ ہوتا ہے اور اس کے بعد شیخ عمر کا اس واقعے پر موقف لیا جاتا ہے اور پھر سارا میڈیا ان کو ہدف تنقید بنانا شروع کر دیتا ہے۔ ۔اب میں آپ کو اس کہانی کا ایک اور رخ بتاتا ہوں۔ موٹر وے پر خاتون کی گاڑی اور لوکیشن کے بارے میں کون جانتا تھا۔ یا تو خاتون کے رشتے دار یا پولیس والے اس لوکیشن سے آگاہ تھے۔ انہیں مدد تو نہ ملی لیکن ان کا ریپ ہو گیا۔۔ اب اس ریپ کی آڑ میں سی سی پی او پر پریشر بڑھایا جا رہا ہے۔ ۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ خاتون کے ساتھ ہونے والے ریپ کے واقعے کی آڑ میں دوسرے لوگ اپنے مفادات پورے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سارے گندے کھیل میں میڈیا برابر کا کردار ادا کر رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے مطابق خاتون کے ساتھ ریپ کرنے والے مبینہ ملزم عابد علی کی نشاندہی ہو چکی ہے اور آئی جی پنجاب انعام غنی کے بقول جب پولیس اس کے ڈیرے پر پہنچی تو وہ اپنی بیوی کے ساتھ فرا ر ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کی بچی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے اور اسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا۔ مبینہ ملز م کے بھائی اور باپ کو بھی پولیس نے حراست میں رکھا ہے۔۔اس کیس کا دوسرے ملزم وقار الحسن نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے اور پولیس کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔۔اسے بلاوجہ اس کیس میں پھنسایا جا رہا ہے۔ بہرحال اس کیس کے مزید حقائق بہت جلد عوام کے سامنے آجائیں گے۔
اب جہاں تک خاتون کے ساتھ ریپ کے واقعے کا تعلق ہے۔ تو جب تک ریپ کرنے والے کے لیے اس ملک میں فوری سزائے موت کا قانون نہیں بنایا جاتا۔ تب تک ایسے واقعات نہیں روکے جا سکتے۔ ایسے واقعات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *