zameer naqvi

مولانا ضمیر اختر نقوی عرف لڈن جعفری انتقال کر گئے، سوشل میڈیا پر ہمیشہ ان کا مذاق اڑایا جاتا رہا

علامہ ضمیر اختر نقوی 24 مارچ 1944ءکو لکھنو یں پیدا ہوئے۔۔اور 13 ستمبر2020 کو دنیا سے رخصت ہوئے۔۔انہوں نے 76 برس کی عمر پائی۔۔شیعہ مسلک کے معروف عالم، خطیب اور اردو شاعر تھے۔۔
پاکستان میں سوشل میڈیا کے انقلاب نے جہاں بہت سارے منفی سوچ رکھنے والوں کو بے نقاب کیا ،،وہاں بہت ساری علمی شخصیات کا تعارف بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا۔۔بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر اکثریت ایسے افراد کی ہے ۔۔جو نان سیریس اور ہر شخصیت کے مضحکہ خیز پہلو پر ہی نظر رکھتے ہیں۔۔اگر انہیں کسی کی شخصیت میں کوئی ایسی بات نہ بھی ملے تو من گھڑت طریقے سے جھوٹی کہانیاں گھڑ کر کسی کی بھی شخصیت کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔

علامہ ضمیر اختر نقوی اپنے مخصوص اندازِ خطابت سے مشہور ہوئے ۔۔ان کے بیانات پر اختلاف اپنی جگہ ،،لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں وہ بہرحال شیعہ مسلک کے ایک معروف عالم تھے۔۔ان کے بیانات کو تسلیم کرنا میرے لیے بھی آسان نہیں۔۔لیکن کسی کی تضحیک کرنا کسی طور پر درست عمل ہرگز نہیں سمجھا جاتا۔۔
مثال کے طور پر ۔۔یہ تو ہو گا۔۔یہ جملہ جو علامہ صاحب کے کسی خطاب سے چرایا گیا۔۔اسے ڈکی بھائی سمیت مشہور یوٹیوبرز اپنے پرینکس میں استعمال کرتے رہے ہیں۔۔نیپال کے نام سے بھی انہوں نے ایک واقعہ سنایا۔۔اس پر بھی ان پر سوشل میڈیا میں تنقید ہوتی رہی۔۔
وہ بات کو بڑھا چڑھا کر کرنے کے عادی ضرور تھے۔۔یہی وجہ تھی کہ ان کی سنجیدہ باتوں کو بھی لوگ مذاق میں لے لیتے تھے۔۔ علامہ ضمیر اختر نقوی چالیس سے زائد تصانیف کے مالک تھے۔۔اس کے علاوہ وہ شاعری بھی کرتے تھے۔۔ان کی وفات پر سیاستدانوں اور تمام اہم شخصیات نے اظہار افسوس کیا۔۔
علامہ ضمیر اختر نقوی کولڈن جعفری کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور ان کے بیانات کو سوشل میڈیا پر خوب شیئر کیا جاتا تھا۔۔سوشل میڈیا پر بھی بہت مشہور تھے، وہ اپنی تقریروں، قصے و واقعات بیان کرنے کے حوالے سے منفرد شہرت رکھتے تھے۔
کراچی میں علامہ ضمیر اختر نقوی کو ضمیر گھوڑوی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ علامہ ضمیر اختر نقوی گھوڑوں کی دعوت کیا کرتے تھے اور ان کے لیے باقاعدہ شامیانے لگا کر میزوں پر دودھ جلیبیوں کی پرات سجا کر وہاں لایا جاتا اور اس طرح کی مجالس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اکثر زیر بحث رہتی تھیں۔
ضمیر اختر نقوی نے ایک ویڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا پاکستان ذوالجناح کی وجہ سے بنا اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے اپنی مجلس میں بیان کیا کہ مسٹر جناح کی دادی ذوالجناح کے پاس گئیں اور ذوالجناح نے ان کے کان میں کچھ کہا پھر کچھ عرصہ بعدمسٹر جناح پیدا ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسٹر جناح کے نام کے ساتھ لفظ ”جناح“ ذوالجناح کی ہی نسبت سے ہے کیونکہ ان کی پیدائش ذوالجناح کی دعا وغیرہ سے ہوئی تھی۔۔
ضمیر نقوی صاحب نے سوشل میڈیا پرسنیلٹی وقار ذکا کے شو میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ان کے پاس کورونا کا علاج موجود ہے۔۔لیکن وہ کسی کو بتائیں گے نہیں۔۔کیوں کہ لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔۔سوشل میڈیا نے مولانا ضمیر جعفری کو شہرت ضرور دی۔۔لیکن ان کے انداز گفتگو اور خطابت کے صرف منفی پہلو ہی سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *