castration in pakistan

ریپ کے مجرم کو کیسے نامرد کیا جائے گا، پاکستانی عوام کنفیوژ ہو گئی

وزیراعظم عمران خان نے اینکر معید پیرزادہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ریپ کرنے والوں کو یا تو نامرد کر دینا چاہیے یا سرعام پھانسی دینی چاہیے۔۔اس حوالے سے واضح کنفیوژن ہے۔ کیوںکہ اس بات کا کوئی درست اندازہ نہیں لگا سکتا کہ حکومت کرنا کیا چاہ رہی ہے ۔

Must read:

http://shakeelmalik.com/crime-story-or-success-story/self-development/motivation/

http://shakeelmalik.com/6-benefits-of-journal-writing/self-development/

http://shakeelmalik.com/pray-for-difficult-easy-life-destroy/self-development/

http://shakeelmalik.com/why-motivation-is-necessary/self-development/

کیا ریپ کے مجرموں کو پہلے نامرد کیا جائے گا اور اس کے بعد پھانسی دی جائے گی یا نامرد کر کے اسے جیل میں عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ اس حوالے سے وزیراعظم کے بیان میں کنفیوژن ہے۔
مجھے حیرت اور دکھ بھی ہوا کہ ایک نوجوان صحافی جو اب یوٹیوب پر بھی بہت مشہور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اپنی ویڈیو کا تھمبنیل کچھ اس طرح سے بنایا کہ ۔۔”ریپ کرنے والوںکے اعضاءکاٹ دیئے جائیں گے“۔
اس نوجوان صحافی کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ سبسکرائبرز ہیں۔ اور یہ ایک عرصے سے میڈیا سے وابستہ بھی ہے۔ یہ بالکل غلط گائیڈ کر رہا ہے۔
نامرد کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ریپ کرنے والے مجرم کا آلہ تناسل کاٹ دیا جائے گا۔ اگر یہ صحافی تھوڑی سی زحمت کر کے انٹرنیٹ پر ریسرچ کر لیتا تو اسے پتا چل جاتا ۔
سب سے پہلے تو اپنے دماغوں میں یہ کلیئر کر لیں کہ آپ زمانہ جہالت میں زندہ نہیں ہیں کہ مجرموں کے آلہ تناسل کاٹ کر لٹکاتے پھریں۔
نامرد کرنے کے سائنٹیفک طریقے موجود ہیں۔ 2 طریقے سے کسی بھی ریپ کے مجرم کو نامرد بنایا جائے گا۔ پہلا طریقہ سرجیکل کیسٹریشن کہلاتا ہے۔ اس میں مجرم کے دونوں خصیے سرجری کے ذریعے جسم سے الگ کر دیئے جاتے ہیں۔ اس طریقے سے وہ ہمیشہ کے لیے نامرد ہو جاتا ہے۔
دوسرا طریقہ کیمیکل کیسٹریشن کہلاتا ہے۔ اس طریقے میںمجرم کو ایسی ادویات کا استعمال کروایا جاتا ہے، جس میں کچھ انجیکشن بھی شامل ہوتے ہیں، جس کے ذریعے مجرم کو نامرد کیا جاتا ہے۔
چناں چہ اب آپ لوگوں کا کنسیپٹ کلیئر ہو جانا چاہیے. اب یہاں پر ایک اور بات کلیئر کر لیں کہ پہلے والا طریقہ جسے سرجیکل کیسٹریشن کہتے ہیں اس کا کوئی علاج نہیں۔ اس سے ہمیشہ کے لیے نامردی ہو جاتی ہے۔
لیکن یہ طریقہ صرف ریپ کے مجرموں پر ہی استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ کینسر کی ایک قسم جسے پراسٹیٹ کینسر کہتے ہیں۔ یعنی مثانے کا کینسر اس کینسر کی آخری اسٹیج میں مریض پر یہی سرجیکل کیسٹریشن کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے کیوں کہ اس طرح کے کینسر میں ڈاکٹر مریض کی جان بچانے کے لیے سرجیکل طریقے سے مریض کو نامرد کر دیتے ہیں۔
یاد رکھیںا س سے کینسر ٹھیک نہیں ہو جاتا۔ لیکن اس کو پھیلنے سے روکا جاتا ہے اور مریض عمر بھر کی نامردی کو قبول کر لیتا ہے۔ اب آپ کو اچھی طرح سے پتا چل گیا ہو گا کہ سرجیکل کیسٹریشن کا عمل اگر کسی ریپ کے مجرم پر کیا جائے تو وہ تا حیات نامردی کا شکار ہوتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں کیمیکل کیسٹریشن کی۔ کیمیکل کیسٹریشن کے ذریعے بھی ریپ کے مجرموں کو نامرد کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ طریقہ مجرم کو عمر بھر کے لیے نامرد نہیں بناتا۔ جی ہاں۔ آپ نے درست سنا ۔ اس طریقے سے ریپ کا مجرم عمر بھر کے لیے نامرد نہیں ہوتا۔
اس طریقہ علاج میں ایسی ادویات اور انجکشن استعمال کیے جاتے ہیں جو مریض کی جنسی خواہش کو کم کر دیتے ہیں ۔ لیکن جس وقت ان ادویات کا استعمال روکا جاتا ہے کچھ عرصے بعد مریض دوبارہ نارمل ہو جاتا ہے یعنی پہلے جیسا ہو جاتاہے۔
ہاں اگر یہ ادویات کئی سال تک مسلسل مجرم کو استعمال کروائی جاتی رہیںتو پھر وہ مستقل نامرد بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن کیمیکل کیسٹریشن کے عمل میں بہرحال مجرم کے صحتیاب ہونے کے امکانات موجود ہیں۔
صرف سرجیکل کیسٹریشن واحد عمل ہے جس سے ریپ کرنے والا مجرم ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو جاتا ہے۔وزیراعظم نے معید پیرزادہ کو جو انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کیمیکل کیسٹریشن کی بات کی ہے اور سرجیکل کیسٹریشن کی بات کی ہے۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں کئی ممالک میں یہ طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے ریپ کے مجرموں کو سبق سکھانے کے لیے۔ لیکن آپ یہ بات ذہن میں رکھیے۔ دنیا کے زیادہ تر ممالک جو ریپ کے مجرموں کو کیسٹریشن کے عمل سے گزارتے ہیں۔۔ ان پر سرجیکل کیسٹریشن کا عمل نہیں کیا جاتا ہے۔

ان مجرموں کو کیمیکل کیسٹریشن کے ذریعے ہی نامرد رکھا جاتا ہے اورایسا سسٹم بنا دیا جاتا ہے کہ مریض کو جیل سے باہر آنے کے بعد بھی یہ ادویات زبردستی استعمال کروائی جاتی ہیں۔ اب یہاں پر سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ریپ کے مجرموں کو نامرد بنانے کے لیے کون سا طریقہ استعمال کیا جائے گا۔ کیمیکل کیسٹریشن یا سرجیکل کیسٹریشن۔
ایسی کئی مثالیں موجود ہیںکہ جن ممالک میں کیمیکل کیسٹریشن کی جاتی ہے وہاں بہت سارے مجرم جب سدھر گئے اور ان کی ادویات روک دی گئیں تو کچھ عرصے بعد ان کی طاقت بحال ہو گئی۔
۔لیکن چوں کہ وزیراعظم کیسٹریشن کے ساتھ سرعام پھانسی کی بات بھی کر رہے ہیں تو یہ ایک کنفیوژن ہے کیوں کہ امریکا اور یورپ کے جن ممالک میں کیمیکل کیسٹریشن کا عمل جن مجرموں پر کیا جاتا ہے، ان مجرموں کو سزائے موت نہیں دی جاتی بلکہ زیادہ تر ملکوں میں سزائے موت کا قانون ہی نہیں ہے۔۔بلکہ سزائے موت کی جگہ عمر قید دی جاتی ہے۔
یہاں پر دو باتیں کی جا رہی ہیں۔ یعنی پہلے ریپ کرنے والے کو خصی کرو اور پھر پھانسی پر لٹکا دو۔
یہ بالکل غیر منطقی بات ہے۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ وزیراعظم کو ابھی خود بھی اندازہ نہیں کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ سرعام پھانسی دینا چاہتے ہیں تو خصی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ریپ کے مجرم کو ایک ہفتے کے اندر پھانسی پر لٹکا دو۔اگر خصی کرنا ہے اور سرعام پھانسی بھی دینی ہے تو یہ دو باتیں ایک ساتھ سمجھ نہیں آتیں۔
مجرم نشان عبرت تب بنے گا جب وہ نامرد ہو کر زندگی گزارے گا۔اگر وہ زندہ ہی نہیں رہے گا تو اس کے خصی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
امید کرتے ہیں کہ فیصل واڈا جو اس حوالے سے ڈرافٹ تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ یقینا جب ڈرافٹ منظر عام پر لائیں گے تو ان سب باتوں کی وضاحت ہو جائے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *