castration in pakistan

کون سے ممالک میں ریپ کے مجرموں کو نامرد کیا جاتا ہے؟

سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ صرف ریپ کرنے پر پاکستان میں سزائے موت کا کوئی قانون سرے سے موجود نہیں۔ زیادہ سے زیادہ چند سال قید کی سزا ہوتی ہے۔
صرف ایک ہی صورت ہے کہ اگر وکٹم یعنی جس کے ساتھ ریپ ہوا ہے اسے ریپ کے بعد اگر قتل کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں مجرموں کو سزائے موت ہو سکتی ہے۔
اگر آپ موٹروے کیس کی بات کریں تو یہاں پر وکٹم کا ریپ ہوا لیکن وکٹم زندہ ہے ۔ لہٰذا اب تک کی تاریخ یہ کہتی ہے کہ ان ریپ کرنے والوں کو موجودہ قانون کے مطابق سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔

Must read:

http://shakeelmalik.com/crime-story-or-success-story/self-development/motivation/

http://shakeelmalik.com/6-benefits-of-journal-writing/self-development/

http://shakeelmalik.com/pray-for-difficult-easy-life-destroy/self-development/

http://shakeelmalik.com/why-motivation-is-necessary/self-development/

ناں چہ حکومت اگرچاہے تو نامرد کرنے کا قانون متعارف کروا سکتی ہے یعنی ریپ کرنے والے کو نامرد کر دیا جائے اور اسے جیل بھیج دیا جائے۔ کیوں کہ اسمبلی سے ریپ کے مجرموں کی سزائے موت کا بل پاس کروانا بہت مشکل امر ہو گا کیوں کہ اپوزیشن اس معاملے پر حکومت کی مخالفت کر رہی ہے۔

خیر اب ہم بات کرتے ہیں کہ وہ کون سے ممالک ہیں جہاں کیمیکل کیسٹریشن کے ذریعے ریپ کے مجرموں کو نامرد کیا جاتا ہے اور ہاں اور ایک ضرور ی بات بھی اپنے ذہن میں رکھیں کہ دنیا میں کیسٹریشن یعنی نامردی کا عمل ان ریپ کرنے والے مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے جو ایک سے زیادہ دفعہ کسی کا ریپ کریں۔
یعنی ایسا بالکل نہیں کہ پہلی دفعہ ریپ کرنے والے کو نامرد بنا دیا جائے۔ جو بار بار ریپ کا مرتکب ہو اسی کے لیے دنیا کے مختلف مغربی ممالک میں نامردی کا قانون بنایا گیا ہے۔
ان ممالک میںامریکا کے علاوہ ارجنٹینا،آسٹریلیا،ایسٹونیا،اسرائیل، نیوزی لینڈ، ہنگری،پولینڈ،لیتھونیا، جرمنی،فرانس، بیلجیئم، سویڈن، فن لینڈ، ناروے ، ڈنمارک اور آئس لینڈ شامل ہیں یہاں ریپ کرنے والے مجرموں کو کیمیکل کیسٹریشن کے ذریعے نامرد بنا دیا جاتا ہے۔
یہاں پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ ان ممالک میں قید ی خود بھی جیل حکام سے یہ درخواست کرسکتے ہیں کہ انہیں کیمیکل کیسٹریشن کے ذریعے نامرد بنایا جائے۔
پولینڈ یورپی یونین میں شامل وہ واحد ملک ہے جو کیمیکل کیسٹریشن کے ذریعے مجرموں کو نامرد کرنے میں صف اول ہے اور یہاں پر ایسے مجرموں کو نامرد کرنا ایک لازمی سزا کے طور پر کرنا ضروری ہے۔ یعنی ہر صورت ایسا کیا جائے گا۔ لیکن اس کے لیے کچھ شرائط ہیں۔
ریپ کے ہر کیس میں اس سزا پر عمل درآمد نہیں کروایا جاتا ہے۔ کچھ مخصوص کیسوں میں یعنی بار بار ریپ کرنے والے پر ہی یہ قانون لاگو کیا جاتا ہے اور دوسری شرط یہ ہے کہ اگر پندرہ سال سے کم عمر کے بچے یا بچی کے ساتھ ریپ ہو تو اس قانون کو لاگو کیا جائے گا۔
اگر ہم امریکا کی بات کریں تو یہاں 9ریاستوں میں ریپ کرنے والے مجرموں کو نامرد کرنے کا قانون موجود ہے۔ان امریکی ریاستوں میں کیلی فورنیا،فلوریڈا ، جارجیا،لاو¿سائنا،مونتانا، اوریگن، ٹیکساس،الباما، اور وسکانسن اسٹیٹس شامل ہیں۔
ان سب امریکی ریاستوں میں کیمیکل کیسٹریشن کے ذریعے نامرد کیا جاتا ہے۔ یہاں پر یہ بات ذہن میں رکھیں کہ دوسرے یورپی ملکوں کی طرح ان امریکی ریاستوں میں مخصوص حالات میں قیدیوں کی درخواست پر انہیں نامرد کیا جاتا بلکہ ریپ کے مخصوص کیسز میں گورنمنٹ خود قیدیوں کو نامرد بناتی ہے ۔ بھلے ان کی خواہش ہو یا نہ ہو۔
اور امریکی ریاست ٹیکساس میں یہ قانون بھی ہے کہ ریپ کے مخصوص کیسز میں ریاستی قانون کے مطابق مجرموں کو سرجیکل کیسٹریشن کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔جس سے مجرم مرتے دم تک کے لیے نامرد ہو جاتے ہیں یعنی سرجری کے بعد ان کے ٹیسٹیس نکال دیئے جاتے ہیں۔
امریکا کی ایک اور ریاست الباما میں بھی2019 ءمیں یہ قانون بن چکا ہے جس میں مخصوص حالات میں ریپ کے مجرم کو کیمیکل کیسٹریشن کے عمل سے گزارا جائے گا۔یعنی جو مجرم تیرہ سال سے کم عمر بچوں کا ریپ کرے گا اسے کیمیکل کیسٹریشن کے عمل سے گزارا جائے گا اور مخصوص انجکشن کے ذریعے اسے نامرد بنا دیا جائے گا۔
یوکرین کے اندر بھی یہ قانون ہے کہ وہاں کم عمر بچوں سے زیادتی کرنے والوں کو کیمیکل کیسٹریشن کے ذریعے نامرد کیا جاتا ہے۔۔یہ قانون یوکرین کے اندر2019 ءمیں بنایا گیا تھا۔۔
چند دن پہلے نائیجیریا کی حکومت نے بھی ایک قانون بنایا ہے کہ چودہ سال سے کم عمر بچوں یا بچیوں سے ریپ کرنے والوں کو سرجیکل کیسٹریشن کا سامنا کرنا پڑے گا یعنی ان کے دونوں ٹیسٹس نکال دیئے جائیں گے۔ یہ سب سے سنگین سزا ہے۔
اب آپ کے بتاتے ہیں کہ وہ کون سے ملک ہیں جہاں سرجیکل کیسٹریشن کے ذریعے ریپ کے مجرموں سے نمٹا جاتا ہے۔ یعنی ان کے ٹیسٹس نکال دیئے جاتے ہیں۔ اور انہیں ہمیشہ کی نامردی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔
ان ممالک میں چیک ریپبلک ایک ایسا ملک ہے جہاں ریپ کے مجرم کو سرجیکل کیسٹریشن کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *